Followers

Monday, June 17, 2019

معیشت کی زبوں حالی اور ہمارا کردار

معیشت کی زبوں حالی اور ہمارا کردار
( تحریر :انجینئر راجہ افتخار حسین ڈنمارک)   
 پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتاہے کہ جن کو خداوند کریم نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ، ان نعمتوں میں دنیا کے بلند وبالا پہاڑ ہو یا ریگستان، دنیا کا جدید ترین نہری نظام ہو یا سمندر، نباتات ہو یا معدنیات، سیاحت ہو یا زراعت الغرض دنیا کی کوئی  نعمت ایسی نہیں ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ننی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ سے ہمیں عطا نہ کی ہو. میرے خیال میں وطن عزیز پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال میں مندرجہ ذیل عناصر کا اہم  کردار ہے :
ہمیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد کوئی ایسا لیڈر نصیب نہیں ہوا کہ جو آنے والی نسلوں کا سوچتا بلکہ بد قسمتی سے ایسے ضرور آئے ہیں جو قوم وملت کے مستقبل کی بجائے اپنی نسلوں کے بہتر مستقبل کا سوچتے رہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وطن عزیز میں بسنے  والے تو نہ سنور سکے ہاں البتہ ان حکمرانوں کی نسلیں ضرور سنور گئیں  جس کی وجہ سے ملک کا ہر شہری قرضوں کی دلدل میں دھنس چکا ہے۔ مگر افسوس صد افسوس آج بھی ملک کا بے شعور  اور مفاد پرست طبقہ ملک لوٹنے اور ہمیں اس زبوں حالی تک پہچانے والوں کے نعرے لگاتے تھکتا نہیں جس سے لگتا یوں ہے جیسے ان کرپٹ حکمرانوں نے عوام سے شعور اور اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی سلب کر لی ہو لہذا ملک کی محبت اپنی پارٹی قیادت سے محبت پر مقدم ہونے کی بجائے مؤخر لگتی نظر آتی ہے۔
دوسرا عنصر ملک کا پڑھا لکھا طبقہ ہے جو کہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہاہے مگر ہم نے تعلیم کو فوقیت دینے کی بجائے  ایسے کاموں کو اہمیت دی جو وقتی فائدہ مند ثابت ہوں اور ان کو ہم اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہیں .
 تیسرا عدالتی نظام کو مضبوط کرنے کی بجائے ہم ان کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے رہے. عدالتوں میں کوئی ایسی ریفارمز نہ لا سکے جو اک غریب کو سستا انصاف اس کی دہلیز پرمہیا کرسکتاالغرض وہ عدل قائم نہ کر سکے جس کی بنیاد پر یہ پاک دھرتی قائم ہوئی تھی.
 چوتھا ملک کو فلاحی ریاست بنانے کیلئےایسے اقدامات کیے جاتے  جس کا بوجھ عام عوام کو نہ پڑھتا. اس کے لیے ٹیکس ریفارمز کی جاتیں . مگر یہاں تو غریبوں سے ہی ٹیکس وصول کیا جاتا رہا اس سے امیر اور غریب میں واضح فرق  پڑھ گیا اور اس نظام نے امیر کو امیر تر اورغریب کو غریب تر بنادیا . اس طبقاتی تقسیم کو دور کرنے کیلئے لازمی ٹیکس ریفارمز کی جائیں جس کا بوجھ عام عوام پر نہ پڑے.
میں نے اعدادوشمار بتائے بغیر چند عناصر کا ذکرکیا ہے اور ہم بحیثیت قوم اور پاکستانی کیا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور کیا کر رہے ہیں ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے
آج ہمیں بحیثیت پاکستانی اپنے ملک کو مضبوط کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا   ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط کرنا ہے ہم نے اپنے کردار کو ٹھیک کرنا ہے اور اپنے ملک کی معیشت کو سہارا دینا ہے
ہمیں سب سے پہلے پاکستانی ہونے کے شعور کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ اگر یہ ہے تو ہم ہیں ، ہماری پارٹیاں اور ہمارے لیڈران ہیں
تو سلامت وطن تا قیامت وطن
پاکستان زندہ باد

Pavilion wapis atay huay Pakistaniu sa team ki chitrol | Pakistani hosh ...

Sunday, June 16, 2019

صحافت اور اس کے تقاضے



تحریر:
انجینئر راجہ افتخار حسین ڈنمارک
میرا تعلق ایک فوجی گھرانے سے ہے اور صحافت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں لیکن اچھے صحافیوں، لکھاریوں اور شاعروں سے ملٹری کالج جہلم کے دور سے لے کر اب تک اچھا تعلق ضرور رہا ہے. میرا تعلق انجینئرنگ کے شعبے سے وابستہ ہے اور میں دنیا بھر کی سیمنٹ انڈسٹری کو میکنکل کے شعبے میں اسپورٹ کرتا ہوں اور الحمد للہ اب تک پچاس سے زیادہ ملکوں اور سینکڑوں کے حساب سے سیمنٹ فیکٹریوں کو اپنی خدمات دے چکا ہوں اور دے رہا ہوں.؛ یہ بلاشبہ میرے اور میرے وطن کیلئے ایک اعزاز سے کم نہیں. ملٹری کالج جہلم میں ہمیں ایسے استادِ محترم ملے جنھوں کے شاگردوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھائی چاہے وہ ملک کا دفاع کرتے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی صورت میں ہو یا ادبی میدان ہو.
کالج میں ہمیں ادب کی طرف راغب کرنے کیلئے ایک مناسب پلیٹ فارم میسر تھا جو کہ اعلیٰ استادوں کے زیر نگرانی چلتا تھا. ان درخشندہ ستاروں میں جناب پروفیسر سعید راشد، پروفیسر مشتاق، مرزا صاحب, پروفیسر طارق اور کرنل بشیر قابل ذکر تھے . آج بھی ان کے شاگردوں میں یوسف علمگیرین اور راجہ سعید ادب اور صحافت میں اعلی مقام بنانے بیھٹے ہیں.
اب آتے ہیں صحافت اور اس کے تقاضوں پہ تو کالج میں تقریری مقابلوں کے دوران اکثر ایک موضوع زیرِ بحث آتا تھا کہ قلم تلوار سے زیادہ طاقتور ہے. تو میں اکثر سوچ میں پڑ جاتا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے اور مقابلے میں قلم کے حق میں دلائل دینے والے جیت بھی جاتے تھے.
پھر میرے زہین میں خیالات آتے کہ یہ قلم کے پیچھے سوچ، اس کے پیچھے شخصیت، اسکے پیچھے سچائی، اس کے پیچھے ایمانداری، اس کے پیچھے حب الوطنی، اس کے پیچھے ہمدردی، اس کے پیچھے انصاف، اور سب سے بزھ کر اس کے پیچھے چھپی ہوئی انسانیت ہے جو قلم کو تلوار سے زیادہ طاقتور کر دیتی ہے ورنہ اگر یہ سارے عوامل تلوار کے پیچھے ہاتھوں میں آجائیں اور قلم والے ہاتھ بَکنے اور بکنے لگ جائیں، جھوٹ اور فریب کو اپنا وطیرہ بنا لیں، ملک اور قوم میں مایوسی پھیلائیں، انصاف کے اصولوں کو بیچ دیں، قلم کو اصلاح کی بجائے کاروبار بنا لیں، ملک کی سلامتی کو داو پر لگا لیں تو کیا اس صورت میں پھر بھی قلم اس تلوار سے طاقتور ہے؟ جو غریبوں کو تلوار کے زور پر انصاف دلا دیے.سچ کا بول بالا کر دے، اس تلوار کے پیچھے طاقتور ہاتھ ملک کی سلامتی کو یقینی بنادیں، انصاف اور عدل قائم کر دیںاور سب سے بڑھ کر یہ تلوار غریبوں کی آواز بن جائے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے.جو ہر ایک کے زہین میں آتا ہے لیکن میں پھر بھی پرامید ہوں اس قلم سے اس صحافت سے جو ملک اور قوم کی خیر خواہ ہے اور ملک کو ان مایوسیوں سے نکالنے میں پرامید یے اور اپنا کردار ادا کر رہی ہے. ہمیں بحیثیت مجموعی قوم ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنی یے جو ہمارے پیارے وطن کو مایوسی اور اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں. اللّٰہ ہمارے ملک کو آنے والی مشکلات سے بچائے آمین.
پاکستان زندہ باد

Biggest training session going to held in MUST titled "Land your dreams job with Mudassar butt" by American Society of Mechanical Engineers

American Society of Mechanical engineers MUST Chapter going to organize training session titled "Land your dreams job by Mudassar ghafoor butt" on thursday 20 june 2019 at 10:00 am 

A Mechanical Engineer by profession, Mudassar works with Volvo Pakistan’s marketing and sales division. Over the span of 5 years, he has worked with clients across automotive and power industries, assisting companies with increased sales and enhanced customer base. His ability to connect with clients and accordingly cater to their needs allows him to tailor his message to meet their motto of meeting user specific goals and objectives.
Mudassar has been involved in several community development programs and has organized various technical contests, conferences, seminars and sessions etc. He founded American Society of Mechanical Engineers chapter at Mirpur University of Science and Technology (MUST), AJ&K and led it to become an active community of mechanical engineering students. He is a believer and trusts in his own abilities and his vision to impact, inspire and lead his fellows and juniors.
Driven by positivism, Mudassar aims to provide better understanding of the competitive corporate world to the youth enabling them to effectively pursue the results they seek.

Saturday, February 2, 2019

ریاست مدینہ کا مطلب لوگوں کو مفت حج کروانا نہیں، وفاقی وزیر مذہبی امور

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری کہتے ہیں
مدینہ کی ریاست کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو مفت میں حج کروائیں، خواہش تھی حج پر سبسڈی دی جائے۔
پشاور کی شہید بے نظیر بھٹو وویمن یونیورسٹی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا مدینہ کی ریاست کا مطلب یہ نہیں کہ لوگوں کو مفت حج کروائیں، مدینہ کی ریاست کا مطلب لوگوں کو خوشیاں دینا اور فلاحی ریاست بننا ہے۔
جمعرات 31 جنوری کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حج 2019ء کےلئے سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وزارت مذہبی امور نے 45 ہزار روپے فی حاجی سبسڈی دینے کی تجویز دی تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا ہماری وزارت کی خواہش تھی کہ حج پر سبسڈی دی جائے مگر وزیراعظم اور کابینہ نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا، کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ حج صاحب استطاعت لوگوں کا حق ہے اس لیے سبسڈی صحت، تعلیم اور دیگر فلاحی کاموں پر لگانا چاہیئے۔
نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ حج کی سبسڈی سے غریب اور امرا دونوں طبقے مسفید ہو رہے تھے، ہر سال حج تاریخ کا مہنگا ترین حج ہوتا ہے اور صاحب استطاعت لوگ ہی حج کرتے ہیں اس لیے جس کے پاس پیسے ہوں وہ حج کےلیے جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت بھی قبائلی اضلاع میں کابینہ کے اجلاس کرے گی۔ وفاقی وزیر نے پیٹرول کی قیمتوں میں مزید کمی کرنے کی نوید بھی سنائی۔
جمعہ یکم فروری کو جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مشتاق احمد نے حج اخراجات میں اضافے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کرایا ہے۔

Friday, January 25, 2019

پی آئی اے کے آڈٹ میں سات ارب روپے غائب ہو گئے

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ نے اپنے چیف فائنینشل آفیسر کو سات ارب روپے کی رقم کا حساب کتاب نہ ہونے پر
اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔
اس اظہارِ وجوہ کے نوٹس کی بنیاد آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے موصول ہونے والا ایک خط ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ 'پی آئی اے فنانس کی جانب سے فراہم کردہ حساب کی رقم 23.565 ارب روپے ہے جبکہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے اسی عرصے کے دوران پی آئی اے کو فراہم کی جانے والی رقم 30.81 ارب روپے ہے۔'
بی بی سی کے پاس موجود اس خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ 'حکومتِ پاکستان کی جانب سے دی جانے ضمانتوں کی رقم پی آئی اے کی جانب سے 175.085 ارب بتائی گئی ہے جبکہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے یہ رقم 177.230 ارب روپے درج کی گئی ہے۔'
پی آئی اے کے بارے میں مزید
آڈیٹر جنرل نے پی آئی اے سے اس فرق کی وضاحت طلب کی ہے۔
پی آئی اے کے سربراہ نے اس خط کی بنیاد پر کمپنی کے چیف فنانس آفیسر نیّر حیات سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ بتائیں کہ 'آخر کیوں پی آئی اے کی جانب سے آڈٹ ٹیم کو غلط معلومات فراہم کی گئیں اور فراہم کردہ اعداد و شمار میں فرق کیوں ہے اور کیوں بار بار درخواست کے باوجود وہ آڈیٹر جنرل کو درست معلومات دینے میں ناکام رہے؟'
نیّر حیات سے تین روز میں اس معاملے پر تحریری وضاحت مانگی گئی ہے جس کے نہ ملنے کے صورت میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
نوٹستصویر کے کاپی رائٹPIAC
یاد رہے کہ نیّر حیات اپریل 2017 سے ستمبر 2017 کے عرصے میں پی آئی ای کے قائم مقام سربراہ کے عہدے ہر بھی قائم رہے ہیں۔
نیّر حیات نے اپریل 2010 میں پی آئی اے میں بحیثیت جنرل مینیجر فنانس شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کے بعد سے کمپنی کے مالیاتی نظم ونسق سے اُن کا براہِ راست تعلق رہا اور ایئرلائن کے لمیٹڈ کمپنی بننے کے بعد سے ان کا عہدہ کمپنی میں چیف فنانس آفیسر کا ہے۔

پی آئی اے: چوری اور منشیات کے الزامات پر سینکڑوں ملازمین برخاست

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے مختلف وجوہات کی بنا پر اب تک 450 ملازمین کو نکالا ہے جن میں جعلی ڈگریوں والے اہلکاروں سے لے کر چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے ملازمین بھی شامل
ہیں۔
پی آئی اے کی جانب سے فراہم کی جانے تفصیلات کے مطابق پی آئی اے نے چالیس بیگج ہینڈلرز کو مشتبہ سرگرمیوں، بغیر اجازت غیر حاضری، چوری کرنے اور      منشیات کے الزامات کے تحت ملازمت سے برخاست کیا ہےیاد رہے کہ کئی بار مسافروں کی جانب سے سامان غائب ہونے یا سامان میں سے قیمتی اشیا غائب ہونے کی شکایات کی جاتی رہی ہیں۔
ان جرائم میں ملوث زیادہ تر اہلکار دیہاڑی دار ہیں جن کی پی آئی اے میں کل تعداد پانچ ہزار کے لگ بھگ ہے۔
چوری یا مشتبہ کارروائیوں میں ملوث نکالے جانے والے اہلکاروں کی اکثریت کراچی میں کام کر رہی تھی جس کے بعد لاہور اور پھر اسلام آباد میں کام کرنے والے ملازمین شامل ہیں۔
اسی طرح پی آئی اے نے صرف گزشتہ چند دنوں کے اندر اندر 70 ملازمین کو ان کی جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر نوکری سے برخاست کیا ہے۔ ان میں 6 پائلٹس، کیبن کرو اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔
گذشتہ چند سالوں کے دوران پی آئی اے سے کم از کم پانچ سو قریب ملازمین کو جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر فارغ کیا جا چکا ہے۔
200 کے قریب 'گھوسٹ' ملازمین کو فارغ کیا گیا جو بغیر کام کیے تنخواہ وصول کر رہے تھے یا جو صرف نام کے ہی ملازم تھے۔

Tuesday, January 22, 2019

بحریہ ٹاؤن کی سپریم کورٹ کو ہاؤسنگ سکیم کو قانونی بنانے کے لیے 350 ارب روپے کی پیشکش

سپریم کورٹ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کی طرف سے کراچی میں مذکورہ سوسائٹی کو قانونی دائرے میں لانے کی لیے 350 ارب روپے کی پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔
عدالت نے بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کو اپنی پیشکش پر
دوبارہ غور کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ 16٫896 ایکڑ کا ہے اور اس میں سے315 ارب روپے محض 7068 ایکڑ کے بنتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے مقدمے میں عملدرآمد ہونے کے بارے میں سماعت کی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران کراچی میں بحریہ ٹاون کے رقبے کے بارے میں سروے جنرل آف پاکستان، قومی احتساب بیورو اور بحریہ ٹاؤن کے نقشوں میں تضاد پر اظہار برہمی کیا اور سروے جنرل آف پاکستان کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
سروے جنرل آف پاکستان کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کراچی میں سرکاری زمین پر قبضے کے حوالے سے غلط بیانی کر رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ جس زمین کی نشاندہی ہوچکی ہے بحریہ ٹاون کی انتظامیہ اس سے باہر بھی لوگوں میں زمینیں فروخت کر رہی ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زمین سرکار کی تھی اور آپ لوگ اس کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ سرکاری زمین کی حفاظت نہیں کر سکتی تو وہ نیب کے مقدمات بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔
جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ عدالت نے حد بندی زمین سے باہر، زمین کی فروخت پر پابندی لگائی تھی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر حد بندی سے باہر زمین بیچی گئی ہے تو پولیس پرچے درج کرے۔
بینچ کے سربراہ نے ڈپٹی کمشنر ملیر کو سرکاری زمین دو ہفتوں میں وا گزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے اس پر عمل درآمد سے متعلق سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
جسٹس عظمت سعید نےریمارکس دیے اگر سرکاری ادارے تعاون نہیں کریں گے تو اچھا نہیں ہو گا۔ اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2014 میں عدالت نے 7ہزار ایکٹر سرکاری زمین کے نرخ 225 ارب روپے طے کیے تھے اور اگر اس میں 40 فیصد اضافہ کریں تو 315 ارب روپے بنتے ہیں۔
ملک ریاضتصویر کے کاپی رائٹAFP
Image captionملک ریاض پاکستان میں بحریہ گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں
بحریہ ٹاؤن کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کے موکل مجموعی طور پر کل 16٫896 ایکٹر زمین کے عوض زیادہ سے زیادہ 350 ارب روپے دے سکتا ہے جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ 315 ارب روپے صرف 7068 ایکٹر کے بنتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں کوئی ٹماٹر نہیں بک رہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ وہ آئندہ سماعت پر نیب، وفاق اور سندھ حکومت کا موقف سن کر فیصلہ کریں گے۔ اس مقدمے کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔
واضح رہے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کو پہلے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ ایک ہزار ارب روپے دیامیر بھاشا ڈیم فنڈ کی تعمیر میں جمع کروادیں تو ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے جائیں گے۔ ملک ریاض نے اس پر اپنا کوئی ردعمل نہیں دیا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس نے اُنھیں پانچ سو ارب روپے جمع کروانے کی پیشکش کی جس پر بھی بحریہ ٹاون کے مالک نے کوئی حامی نہیں بھری تھی۔

Friday, January 4, 2019

Pakistan wants closer cooperation with Turkey: PM

Prime Minister Imran Khan says Pakistan wants closer cooperation with Turkey in every sphere, including trade, economy, defence, and fight against terrorism.

Addressing a joint news conference with Turkish President Recep Tayyip Erdogan in Ankara on Friday, he said Pakistan wants to learn from Turkey's experience in housing, health, and education sectors for the benefit of common people.
The Prime Minister said close cooperation between Pakistan and Turkey for peace in Afghanistan will yield good results.
He said Afghanistan-Pakistan-Turkey summit will help restore tranquality in the war torn Afghanistan.
He said Pakistan is already extending its cooperation in bringing Afghan Taliban and the United States to the negotiating table for peace in Afghanistan.
Imran Khan said Pakistan wants cordial relations with all its neighbours, including India.
He said peace and stability are vital for economic development and it is not possible unless Pakistan and India sit together for a greater dialogue.
Prime Minister said India is avoiding talks with Pakistan on the pretext that it will not hold any dialogue till Islamabad stops supporting terrorism.
He said how things can improve without discussion.
Imran Khan said the real issue between Pakistan and India is Kashmir.
He said an indigenous movement for freedom has been continuing in Occupied Kashmir, which should not be transpired as terrorism.
Imran Khan said Pakistan stands with the international community to defeat the menace of terrorism. He joint efforts of regional countries like Iran, Afghanistan, Turkey, and Pakistan are needed to eliminate terrorism.
He said the people of Pakistan have inherited love for Turkey from their forefathers, who had overwhelmingly supported Turkey in its freedom struggle.
Prime Minister thanked the Turkish President for extending him and his delegation warm welcome and invited him to visit Pakistan.
Speaking on the occasion, Recep Tayyip Erdogan said we have discussed bilateral cooperation in political, trade, and defence sectors. He underlined the need to enhance commercial and trade ties between the two countries.
Turkish President said Turkey and Pakistan enjoy warm and close brotherly relations, which are getting stronger with every passing day.
Prime Minister Imran Khan was presented guard of honour upon arrival at Turkish Presidency in Ankara.
He is on a two-day official visit to Turkey at the invitation of Turkish President.
A delegation led by the Turkish Minister of Health Dr. Fahrettin Koca that included health sector entrepreneurs called on the Prime Minister Imran Khan. Prospects of collaboration in health sector were discussed.

Army inducts A-100 Rocket in MLRS of its Corps of Artillery

Pakistan Army inducts A-100 Rocket in Multiple Launch Rocket System (MLRS) of its Corps of Artillery. 
The rocket A- 100 has been indigenously developed by Pakistani scientists and engineers, with over 100 kilometers range.
The Rocket is a highly effective and potent for interdiction that can effectively disrupt enemy’s mobilization and assembly.
Speaking on the occasion, Army Chief General Qamar Javed Bajwa paid rich tributes to scientists and engineers for indigenously developing A- 100 Rocket which shall augment the existing conventional fire power capabilities of Pakistan Army.
COAS emphasized Pakistan Army’s resolve to strengthen conventional forces to meet challenges of full spectrum threat.
He said Pakistani defence industry has maintained steady progress in the recent times and has contributed to defence of Pakistan.

Tuesday, January 1, 2019

چیئرمین ایس ای سی پی طاہر محمود کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوگیا۔

چیئرمین ایس ای سی پی طاہر محمود کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوگیا۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا تھا کہ طاہر محمود فرار ہوگئے ہیں،جب چیئرمین ایس ای سی پی کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن سامنے آگیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق طاہر محمود کو پی ٹی آئی حکومت نے خود بیرون ملک جانے کی چھٹی دی ہے۔
وزارت خزانہ نے چیئرمین ایس ای سی پی کو 12 روز کی بیرون ملک جانے کےلئے چھٹی منظور کی ہے۔
وزرات خزانہ کے مطابق طاہر محمود 24 دسمبر سے 4 جنوری تک بیرون ملک چھٹی پر گئے ہیں،وہ 5 جنوری کو ڈیوٹی پر واپس آجائیں گے ۔
فواد چوہدری نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ چیئرمین ایس ای سی پی طاہر محمود ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔بشکریہ روزنامہ جنگ

کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گاڑی کو رینجرز نے روک لیا۔

کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گاڑی کو رینجرز
نے روک لیا۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ سی ویو کے دورے کے بعد بغیر پروٹوکول کے نجی گاڑی میں واپس جا رہے تھے کہ رینجرز اہلکاروں نے انہیں روک لیا۔ ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو دیکھتے ہی رینجرز اہلکاروں نے انہیں سیلوٹ کیا جب کہ گاڑی روکے جانے پر وزیراعلیٰ سندھ نے رینجرز اہلکاروں کو شاباش دی۔واضح رہے آج نیو ایئر نائٹ پر سندھ حکومت کی جانب سے سی ویو پر آتش بازی کے پروگرام کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔بشکریہ روزنامہ جنگ